ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہاتھرس واقعہ: یوگی کی 'سازش' والی تھیوری پر اپوزیشن پارٹیوں کا سخت رد عمل آیا سامنے

ہاتھرس واقعہ: یوگی کی 'سازش' والی تھیوری پر اپوزیشن پارٹیوں کا سخت رد عمل آیا سامنے

Tue, 06 Oct 2020 21:47:51    S.O. News Service

لکھنؤ،6؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) ہاتھرس اجتماعی عصمت دری واقعہ میں اتر پردیش حکومت کے ذریعہ نسلی اور فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے کی سازش کے دعووں کو اپوزیشن نے سرے سے خارج کر دیا ہے۔ اپوزیشن نے یوگی حکومت کو دلت مخالف بتاتے ہوئے ان دعووں کو ہاتھرس متاثرہ کی فیملی کے زخموں کو کریدنے والا بتایا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں اور لیڈروں نے یوگی حکومت کو بے وقوفانہ دعویٰ کرنے سے بچنے اور متاثرہ کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

دراصل اتر پردیش حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ہاتھرس واقعہ کا سیاسی فائدہ اٹھانے اور یوگی حکومت کوبدنام کرنے کے لیے پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی جیسے اداروں اور اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت کے خلاف سازش کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعہ ماحول بنایا۔ اس دوران یو پی پولس نے کئی کیس بھی درج کیے ہیں، جن میں کچھ سیاسی لیڈروں، سماجی کارکنان اور صحافیوں کو بھی ملزم بنا دیا گیا ہے۔ یو پی پولس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس معاملے کو طول دینے کے لیے کروڑوں روپے کی غیر ملکی فنڈنگ ہوئی اور اس میں یو پی کے مشہور مافیاؤں کا ہاتھ شامل ہے۔

یوگی حکومت کی سازش کی اس تھیوری کو تمام اپوزیشن پارٹیوں نے مسترد کر دیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ پی ایل پونیا نے اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہاتھرس واقعہ میں بی جے پی کے ذریعہ دعویٰ کردہ سازش کی تھیوری متاثرہ فیملی کے ساتھ ایک بھدّا مذاق ہے۔ سرکاری افسر یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہے کہ متاثرہ کے ساتھ عصمت دری ہوئی تھی۔ متاثرہ لڑکی کا میڈیکل ٹیسٹ 12 دنوں کے بعد کیا گیا اور اس کی فیملی پر بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔

پی ایل پونیا نے آگے کہا کہ "اب جب بی جے پی بیک فٹ پر ہے، تو وہ نئی کہانیاں بنا رہی ہے۔ اس سے ان کے دلت مخالف چہرے کا پتہ چلتا ہے۔ بی جے پی 'منوادی' لوگوں کی پارٹی ہے۔ وہ 'سب کا ساتھ، سب کا وکاس' کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن وہ دلتوں کے خلاف کام کرتے ہیں۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں نے بھی ریزرویشن ختم کرنے کی بات کہی ہے۔ ہاتھرس واقعہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ متاثرہ کا جسم نصف رات کو جلا دیا گیا، جس سے ملک کے سبھی لوگوں کو تکلیف ہوئی ہے۔"

بی جے پی حکومت پر حملہ آور رخ اختیا رکرتے ہوئے پونیا نے کہا کہ "ہمارے لیڈر متاثرہ فیملی سے ملنے گئے تھے، لیکن بی جے پی لیڈروں کو فیملی سے ملنے کا وقت نہیں ملا۔ اونچی ذات کے لوگ ملزمین کے حق میں پنچایت کر رہے ہیں اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ و مقامی صدر ملزمین سے ملنے جاتے ہیں۔ مرکز اور ریاست دونوں جگہ ان کی حکومتیں ہیں، لیکن بی جے پی کا کوئی بھی بڑا لیڈر متاثرہ فیملی سے ملنے نہیں گیا۔ فیملی سیکورٹی کا مطالبہ کر رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ وہ اعلیٰ ذات کے لوگوں سے لگاتار خطرے میں ہے، لیکن مستقل سیکورٹی کی ان کی گزارش پر دھیان نہیں دیا جا رہا ہے۔"

اس درمیان بھیم آرمی کے لیڈر چندرشیکھر آزاد نے اسے آئینی حقوق چھیننے والی بات کہی ہے۔ انھوں نے یو پی حکومت کو برخاست کرنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ صدر جمہوریہ کو عرضداشت بھی بھیجا ہے۔ چندرشیکھر نے کہا کہ حکومت کی ترجیح متاثرہ کو انصاف دلانے کی ہونی چاہیے، لیکن وہ اس بچی کے انصاف کی آواز اٹھانے والوں کی آواز دبانا چاہتی ہے۔

سماجوادی پارٹی کے لیڈر اور ایم ایل سی سنیل یادو ساجن نے بھی ہاتھرس واقعہ میں فساد کی سازش کے سرکاری دعوے کو ہوائی بتایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج ہی ہاتھرس میں ایک دیگر 6 سال کی بچی کے ساتھ درندگی ہو گئی۔ یو پی کی بدعنوان اور ناکاری یوگی حکومت بیٹیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی جگہ ملزمین کو بچانے کے لیے غیر ملکی اینگل کی کہانی بنا رہی ہے۔

بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے بھی اس تعلق سے یوگی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہاتھرس معاملہ میں فرقہ وارانہ اور نسلی فساد بھڑکانے کی سازش کے دعووں کو غلط ٹھہراتے ہوئے مایاوتی نے ٹوئٹ کیا ہے کہ "ہاتھرس معاملہ میں واقعہ کو متاثر کرنے کے لیے نسلی اور فرقہ وارانہ فسادات کی سازش کا یو پی حکومت کا دعویٰ صحیح ہے یا انتخابی چال، یہ تو وقت بتائے گا، لیکن عوام کا مطالبہ متاثرہ فیملی کو انصاف دلانے کے لیے ہے، اس لیے حکومت اس پر توجہ مرکوز کرے تو بہتر ہوگا۔"

مایاوتی نے مزید کہا کہ "ہاتھرس واقعہ میں متاثرہ فیملی کے ساتھ جس طرح کا غلط اور غیر انسانی سلوک کیا گیا، اس کےل یے ملک بھر میں کافی ہنگامہ اور ناراضگی تھی۔ حکومت کو غلطی کو سدھارنے اور متاثرہ فیملی کو انصاف دلانے کے لیے سنجیدہ ہونا چاہیے، ورنہ درندگی والے واقعات کو روکنا مشکل ہوگا۔"


Share: